Categories
japan_visit

japan Educational Tour-page-4

جاپانی ائیر پورٹ کے ، خوش گوار ضابطے میں تھوڑا ہی وقت صرف ہوا۔ ائیر پورٹ کے امیگریشن کے عملے کے ،ہر چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ لگتا ہے مسکراہٹ ان کی تربیت کا حصہ ہوگی۔ پاکستانی ائیر پورٹ کا عملہ تو اپنی مسکراہٹ گھر ہی چھوڑ کر آتاہے۔ شاید مسکراہٹ کا وزن اٹھا نا مشکل ہے۔ پی آئی اے کے عملے نے جہاز میں ایک کارڈ/سوال نامہ دیا تھا جس کو مکمل کرکے جاپانی امیگریشن کے عملے کو دے دیا ۔ ابھی خوبصورت ائیر پورٹ کو چھوڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ لیکن امیگریشن سے فارغ ہونے کے بعد، باہر نکلنا لازم تھا اپنا سامان وصول کیا- دیکھ حیرانگی ہوئی ہمارے بیگ کو چاپانی ٹاکی مار رہے تھَے۔ اس کی دو وجہ ہی ہوسکتی ہیں یا تو ہمارے بیگوں پر لگے جراثیم اور مٹی اپنے ملک میں جانے سے روک رہے تھے یا پھر میزبانی۔ بس اللہ ہی جانے۔ باہر ایک جدید قسم کی بس کھڑی تھی۔ فیاض الدین صاحب، جاپانی ڈرائیورکے ساتھ انتظار کی کیفیت میں ٹھنڈے ہو رہے تھے۔ میرے دل میں آئی یہ بندہ ابھی روٹی شوٹی کا پوچھے گا۔ ہارون آباد سے لاہور، پھر اسلام آباد پھر فلائٹ کا انتظار ،رستے میں جہاز کی روٹی، پھر ایک مرتبہ جہاز کی روٹی جس کو میرے جسیے دیسی بندے کے لئے کھانا یا روٹی کہنا مشکل تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہرحال اب تو بھوک اور تھکاوٹ کا مقابلہ ہو رہا تھا۔

سب مسافروں کے بیٹھ جانے کے بعد بس چلنےکا اتنظار ہونے لگا۔ بس کے مددگار سٹاف نے ہماری طرف دیکھا اور کچھ کہا۔ پھر ہمارے ایکشن کا انتظآر کرنے لگا۔ لیکن ہمیں تو سمجھ کچھ نا آئی۔ پھر محترم فیاض صاحب نے بتایا سیٹ بلٹ باندھ لیں۔ ایک دو احباب نے کھڑے ہو ، فیاض صاحب کو بتایا کہ ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ باندھ لیا ہے۔۔ لیکن ڈرائیور گاڑی چلانے کو تیار نہیں تھا۔ پھر کھڑے ہوکر فیاض صاحب کہنے لگے” جاپان میں بس کے ہر مسافر کو سیٹ بیلٹ باندھنا لازمی ہے” آپ سب باندھ لیں وگرنہ گاڑی نہیں چلے گی۔ سب محترم اساتذہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ہر سیٹ کے ساتھ بیلٹ موجود ہے۔ ہم ایک دوسرے کی طرف ایسے دیکھنے لگے۔ جسے کبھی چھٹی کی گھنٹی،وقت سے پہلے بج جائے تو۔۔۔دیکھتے ہیں۔ سیٹ بلیٹ باندھنے کے بعد گاڑی نے چلنا شروع کر دیا۔ گاڑی کی ہر سیٹ کے ساتھ موبائل چارجر موجود تھا۔ بیٹری اپنی کمزور ترین سطح پر آ چکی تھی۔ اس لئے چارچنگ پر لگا دیا۔

خوشخبری سن کر جی خوش ہو گیا۔ بلکہ جی نے معدےکو بھی بتا دیا۔ معدے تم تیار ہو جاوٗ ۔ کھانے کے لئے کھانا۔۔۔۔۔۔ ملنے والا ہے۔

جاپانی بس

日本のバス
Nihon no basu

Categories
japan_visit NEWS

Japan Educational Tour-Page-1

نومبر 2018 کو آفاق پاکستان اور نہیاں انٹرنشینل کے تعاون سے جاپان کے ایک تعلیمی دورے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں پاکستان بھر سے 24 کے قریب ماہر تعلیم اور سکول مالکان نے اس دورے میں شرکت کی۔ اس دورے کا مقاصد جاپانی نظام تعلیم کو قریب سے دیکھنا تھا۔

اس گروب کے شرکاء کا تعارف بھی ہوتا رہے گا۔ ان کی پیاری پیاری باتیں بھی۔

اسلام آباد ائیر پورٹ پر دوستوں نے اللہ حافظ کہا۔۔نہایت دکھ کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ عثمان ایوب بھائی اس سال اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ عثمان بھائی نے اس دورے کو کامیاب کرنے کے لئے بہت ہی محنت کی۔ اللہ سبحان ان کے درجات بلند فرمائے۔۔۔اللہ سبحان باقی سب دوستوں کو عافیت دے۔عبدالمالک ہاشمی ، عثمان ایوب مرحوم جو آفاق پاکستان کے نمائدے تھے انھوں نے ہمیں الوادع کہا۔

چند دوست جہاز کے انتظار میں،

محترم جاوید تامرہ صاحب جن کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔ کئی ملکوں کا دورہ فرما چکے ہیں۔ بلکہ یہ کہا جائے تو درست ہی ہوگا۔ کئی ملکوں کے باشندوں کو دورے کے موقع پر نظم و نسق سکھا چکے ہیں۔ ہمارے امیر مقرر ہوئے۔ ائیر پورٹ میں داخلے سے لیکر، جہاز اڑنے تک ،ہماری ڈور ان کے ہاتھ میں رہی۔ اپنی باتوں اور ہماری حماقتوں سے لطف اندوز کرتے رہے اور ہوتے رہے۔ ہمارے جہاز نے کراچی سے آنا تھا۔ شاید رستے میں ، اسی کوکوئی دوست مل گیا جس کی وجہ سے باتوں، باتوں میں اسلام آباد آنا بھول گیا۔ پھر مسافروں کے واویلاے نے اس کو اسلام آباد آنے پر مجبور کیا۔ ہمیں اندازہ تو تھا ہی ہمارے دیسی لوگوں کی طرح ،ہمارے جہاز بھی دیسی ہیں۔ جو باتیں کرتے کرتے رات کاٹ دیتے ہیں۔اور گھر والے انتظار کرتے رہتے ہیں۔

بورڈنگ وغیرہ سے فارغ ہو کر جہاز میں داخل ہونے کا مرحلہ آیا تو۔۔مجھے جن صاحب کے ساتھ سیٹ ملی وہ ایک پروفیسر ہیں جن کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ایک نجی تعلیمی ادارہ بھی چلا رہے ہیں۔ نام عتیق الرحمن ہیں۔ بہت ہی شیرہ گھول کر باتیں کرتے ہیں۔ میٹھی میٹھی باتوں سے تعارف ہوا۔قاری صاحبان کی طرح ع ،غ کو گاڑھا کرنا بھی جانتے ہیں۔۔جس کی وجہ سے سننے والے کو ، اپنی سماعت کے ہتھیار بڑَ ے تیز رکھنا پڑھتے ہیں۔

برادر عتیق الرحمن